Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مسواک کی جگہ منجن یا ٹوتھ پیسٹ کا استعمال سنت میں داخل ہے؟

کیا مسواک کی جگہ منجن یا ٹوتھ پیسٹ کا استعمال سنت میں داخل ہے؟

موضوع: وضوء   |  طہارت

سوال نمبر 331:
کیا مسواک کی جگہ منجن یا ٹوتھ پیسٹ کا استعمال سنت میں داخل ہے؟

جواب:

جی ہاں! مسواک کی جگہ منجن یا ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کرنا سنت کے دائرہ میں آتا ہے جس کی دلیل ہمیں مندرجہ ذیل احادیث سے ملتی ہے :

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

تُجْزِی الاَصَابِعُ مَجْزَی السِّوَاکَ.

بيهقی، السنن الکبری، 1 : 41، رقم : 178

’’انگلیاں مسواک کے قائم مقام ہیں۔‘‘

ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں سے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ نے ہمیں مسواک کرنے کی ترغیب دی ہے، کیا اس کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’تمہارے وضو کے وقت تمہاری دو انگلیاں مسواک ہیں جن کو تم اپنے دانتوں پر پھیرتے ہو۔ بغیر نیت کے کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اور ثواب کی نیت کے بغیر کوئی اجر نہیں ہوتا۔‘‘

بيهقی، السنن الکبری، 1 : 41، رقم : 179

ان احادیث سے ثابت ہوا ہے کہ مخصوص لکڑی سے دانت صاف کرنا اسلام کا مطالبہ نہیں ہے بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین کا اصل مقصود یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے دانت صاف رکھے۔ اس لیے منجن اور ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کر لیے جائیں تب بھی حضور علیہ السلام کے حکم پر عمل ہوتا ہے اور اس سے سنت کا ثواب ملتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments