Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - جب بیٹیاں وارث ہوں، تو وارثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جب بیٹیاں وارث ہوں، تو وارثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

موضوع: وراثت کی تقسیم

سوال پوچھنے والے کا نام: نعمان ناصر       مقام: مکۃ المکرمہ

سوال نمبر 3282:
السلام علیکم مفتی صاحب! ایک ساڑھے تین مرلہ کا پلاٹ ہے۔ اس کا مالک اور اس کی بیوہ فوت ہو چکے ہیں، اور ان کی اولاد میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں (بیٹا فوت ہو چکا ہے اور اس کی اولاد موجود ہے)۔ ان کی وراثت کی تقسیم کس طرح سے ہو گی ؟راہنمائی کر دیں۔ شکریہ

جواب:

سوال مزکورہ میں مرنے والوں کی ترتیب بیان نہیں کی گئی کہ پہلے پلاٹ کا مالک فوت ہوا یا اس کی بیوی یا بیٹا؟ کیونکہ یہ سوال ایسا ہے جس کا درست جواب مرنے والوں کی ترتیب کو معلوم  کیے بغیر نہیں دیا جا سکتا۔ بہر حال ہم فرض کر رہے ہیں کہ پہلے پلاٹ کا مالک فوت ہوا ہے، تو وراثت کی تقسیم اس طرح سے ہوگی:

جب پلاٹ کا مالک فوت ہوا تو ورثاء میں ایک بیوی، ایک بیٹا، اور تین بیٹیاں موجود تھے تو بیوہ کو کل مال میں سے آٹھواں حصہ (1/8) ملے گا اور باقی مال کے پانچ حصے بنا کر دو حصے لڑکے کو اور ایک ایک ہر لڑکی کو ملے گا۔ اگر بیٹا پہلے ہی فوت ہو چکا ہے تو اس کے حصے کا مال اس کے بچوں کو ملے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-07-07


Your Comments