Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - جو شخص رسول اکرم (ص) کو برملا خدا کہتا ہو، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جو شخص رسول اکرم (ص) کو برملا خدا کہتا ہو، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

موضوع: توحید  |  توسل   |  استغاثہ و استمداد /نداء یار سول اللہ   |  توحید فی الذات   |  شرک   |  شرک فی الذات   |  مزارات

سوال پوچھنے والے کا نام: ڈاکٹر محمد اخلاق       مقام: انڈیا

سوال نمبر 3268:
السلام علیکم! ہماری مسجد میں حاضر ہونے والے اور بستی کے رہنے والوں کی اکثریت ایسی ہے کہ انکا یہ اعلانیہ عقیدہ ہے کہ مزارات سے حاجت روائی از حد ضروری ہے. اس کی مثال وہ یوں بیان کرتے ہیں کہ جیسے کوئی مقدمہ میں پھنس جائے تو بااثر آدمی کی سفارش یا کورٹ میں وکیل کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے، ایسے ہی اعمال کی قبولیت کے لیے مزارات پر حاضری ضروری ہے۔ ان میں سے بہت سے ایسے حضرات ہیں جو بر ملا کہتے ہیں کہ (معاذاللہ) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی خدا ہیں۔ جب انکو سمجھانے کی کوشش کیجائے تو مرنے مارنے پر اترآتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کی ان صاحبان کے ساتھ نماز پنج گانہ ادا کرنا کہاں تک درست ہے؟

جواب:

حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (معاذاللہ) خدا کہنے والا گمراہ اور شیطان ہے جس کو اس کی جہالت نے اندھا کر دیا ہے۔ جو بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک ٹھہراتا ہے، وہ کافر ہے۔ ایسے شخص کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کو یہ عقیدہ اسلام نے نہیں بلکہ اس کی جہالت نے سکھایا ہے۔

مزارات پر جانا اور صاحبِ مزار کے وسیلہ کو پیش کر کے دعا مانگنا جائز ہے۔ توسل، استغاثہ اور توحید کے مسائل کو سمجھنے کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری کی درج ذیل کتب کا مطالعہ کریں:

  1. مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت
  2. عقیدہ توسل
  3. کتاب التوحید (جلد اوّل)
  4. کتاب التوحید (جلد دوم)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-06-10


Your Comments