ایسی مطلقہ جس کے پاس بیٹی ہو، کیا وہ دوسری شادی کر سکتی ہے؟

سوال نمبر:3247
السلام علیکم! براہ مہربانی رہنمائی فرما دیں کہ کیا طلاق یافتہ عورت جس کی ایک بیٹی ہو وہ دوسری شادی کر سکتی ہے؟اور اگر اس کا دوسرا شوہر اور اس کے گھر والے اس عورت کی بیٹی کو بھی ایک بیٹی کی حیثیت سے قبول کر لیں تو کیا عورت اس طرح شادی کر سکتی ہے؟اس معاملے میں شرعاً کیا احکامات ہیں؟ بیان فرما دیں۔

  • سائل: زینبمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 01 جولائی 2014ء

زمرہ: اولاد کے حقوق

جواب:

مطلقہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے دستور کے مطابق شادی کر سکتی ہے۔پہلے شوہر سے جو بچے ہیں وہ اس وقت تک ماں کے پاس ہی رہیں گے، جب تک انہیں ماں کی ضرورت ہے۔ جب سمجھدار ہو جائیں تو ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ ماں کے پاس رہنا چاہتے ہیں یا باپ کے پاس۔ بچے جب تک ماں کے پاس ہیں ان کا خرچ باپ کی ہی ذمہ  ہے، اور وہی دے گا۔

لہٰذا مطلقہ عورت اولاد کی موجودگی میں اگر چاہے تو شادی کر سکتی ہے۔ بلکہ بہتر ہے کہ وہ شادی کر لے۔ دوسرا خاونداگر اس کی بیٹی کوبھی اپنی بیٹی بنا کے رکھتا ہے تو بہت اچھا، اگر ایسا نہیں بھی ہے تو جب تک اسے ماں کی ضرورت ہے وہ ماں کے پاس ہی رہے گی۔ مگر یہ بات ذہن نشین رہے کہ عورت کا دوسرا خاوند اس کی بیٹی کا سرپرست ہوگا، باپ نہیں۔ لڑکی کی ولدیت ہمیشہ اس کے اصل باپ کا نام ہوگا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟