Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - شراکت ختم ہونے کی صورت میں کیا مکمل رقم واپس لی جائے گی؟

شراکت ختم ہونے کی صورت میں کیا مکمل رقم واپس لی جائے گی؟

موضوع: مضاربت   |  شراکت

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد کامران       مقام: گجرانوالہ، پاکستان

سوال نمبر 3222:
السلام و علیکم! معلوم یہ کرنا ہے کہ اسلام آباد میں مضاربہ سکینڈل کے نام سے جو نفع لیا گیا ہے، وہ واپس کرنا چاہیے یا نہیں؟ ایک آدمی نے شراکت کی اس میں وہ نفع کی بجائے خرچہ فکس دیتا گیا کہ حساب کر کے اگر نفع خرچہ کے اوپر ھوا تو اوپر والے پیسے دے دوں گا، اگر کم ہوئے تو ہبہ کر دوں گا بعد میں پتہ چلا کہ وہ حساب کے بغیر پیسے دیتا رہا، اب وہ چار ماہ سے نفع بھی نہیں دے رہا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اپنی اصل رقم اس سے پوری لینی چاہیے کہ نہیں؟

جواب:

مضاربہ کے مطابق تو آپ کے پیسے اور اس بندے کی محنت کے بعد آنے والے نفع و نقصان میں آپ برابر کے شریک ہوں گے۔ لہٰذا جتنی مدت آپ نے اس کو پیسے دیئے رکھے اور وہ کاروبار کرتا رہا، اس کا حساب کر لیں۔ جو نفع ہوا اس میں سے آدھا لے لیں اور جو نقصان ہوا اس میں سے بھی آدھا اپنے سر لیں۔ اگر نقصان نہیں ہوا تو اصل رقم پوری کی پوری واپس لے لیں، لیکن اگر نفع ہوا ہے تو وہ بھی آدھا آپ لے سکتے ہیں۔ وہ آپ کا حق ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-05-30


Your Comments