Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - آن لائن ویب سائٹس پر کاروبار کرنا کیسا ہے؟

آن لائن ویب سائٹس پر کاروبار کرنا کیسا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: ارشد       مقام: بھکر

سوال نمبر 3151:
السلام علیکم میں‌ یہ پوچھنا چاہتا ہوں پہلے جواب میں آپ نے اس سے بچنے کا کہا ہے لیکن اس سائٹ پر آپ کی واقعی پیسے ملتے ہیں اور آپ یہ بتا دیں کہ اس میں سود کا عنصر ہے یا نہیں‌ باقی اس میں‌ دی گئی فیس سے زائدہ ہم کو واپس پیسے مل جاتے ہیں، یعنی ہم اگر 9 ڈالر فیس دیں‌ تو آسانی سے 40 سے 50 ڈالر بن جاتے ہیں مگر صرف اس وقت جب ہم اس پر کام کریں یعنی تصویر، آرٹیکل پوسٹ کریں تو ورنہ جس دن کام نہ کریں تو 0 آمدنی ہوتی ہے۔ برائے مہربانی مزید رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

ایک طرف تو آپ بتا رہے ہیں کہ 2000 ڈالر آپ کو ادھار دیتے ہیں دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ کام کریں تو پھر 9 ڈالر فیس جمع کرواتے ہیں پھر آپ کو آمدنی ہوتی ہے۔ اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی صاف صاف بتائیں۔ اگر کام کرتے ہیں تو پھر کام کا معاوضہ ملنا چاہیے۔ ایک طرف وہ آپ کو ادھار دے رہے ہیں جو آپ کیش بھی نہیں کروا سکتے۔

دوسری طرف آپ کام بھی کرتے ہیں اور فیس بھی جمع کرواتے ہیں۔ اگر تو آپ 2000 ڈالر ادھار لے کر انویسٹ کرتے ہیں پھر اس کا آپ کو منافع ملنا چاہے اور جب آپ کے پاس ادھار واپس کرنے کی رقم جمع ہو جائے پھر بغیر کمی بیشی 2000 ڈالر واپس کر دیں یا معاہدہ کے مطابق فریقین منافع آپس میں تقسیم کرتے رہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ویب سائیٹ والوں کا کام کرتے ہیں تو ان کو اس کا معاوضہ دینا چاہیے، اگر دیتے ہیں تو جائز ہے، اس کے لینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن کام بھی جائز ہونا چاہیے، کوئی غیر شرعی کام نہیں ہونا چاہیے۔

تیسری بات اگر وہ آپ کو ادھار بھی دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ کام کرنے کی سہولت بھی تو ان کو آپ کی ادھار والی رقم انویسٹ کر کے مناسب منافع بھی آپ کو دینا چاہیے اور کام کا معاوضہ الگ سے دینا چاہیے۔ اگر ایسا ہے تو جائز ہے، سود تو اس وقت ہو گا جب وہ آپ کو 2000 ڈالر قرض دے کر متعین مدت کے بعد معین منافع لیں، وہ سود ہو گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-10-31


Your Comments