Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - سور کیوں حرام ہے؟

سور کیوں حرام ہے؟

موضوع: حرام  |  حرام کھانے

سوال پوچھنے والے کا نام: اسلم احمد       مقام: اٹلی

سوال نمبر 3148:
السلام علیکم برائے مہربانی میری رہنمائی کجیئے کہ سور کیوں حرام ہے۔ اکثر غیر مسلم یہ سوال کرتے ہیں کہ اس کے نہ کھانے کی وجہ بتائی جائے۔ برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔

جواب:

سور کا گوشت نہ کھانے کی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دے دیا ہے۔ اس لیے ہم ان کے حکم کے پابند ہیں، یعنی نص قطعی سے حرام ہے، اس لیے یہ نجس العین ہے۔

اس کے نہ کھانے کی کئی حکمتیں ہیں جن میں سے پہلی حکمت یہ ہے کہ اس میں بہت گندگی اور بدبو ہوتی ہے جو اس کے نجس العین ہونے کی دلیل ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ علم الحیوانات والے لکھتے ہیں کہ باقی تمام جانوروں میں کوئی بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کی مادہ کی قربت کوئی دوسرا کرے۔ لیکن خنزیز کی خباثت کا یہ عالم ہے کہ یہ دوسرے جانوروں کو گھیر گھیر کر اپنی مادہ کی طرف لاتا ہے۔ جب وہ اس مادہ کی قربت کرتے ہیں تو خوش ہوتا ہے۔

لہذا ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ سور کا گوشت کھاتے ہیں ان میں بھی یہ خصلت پائی جاتی ہیں۔ خاوند بیوی کے علاوہ کئی کئی گرل فرینڈز بناتے ہیں اور بیوی اپنے خاوند کے علاوہ بھی بوائے فرینڈز بنا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی کی بیوی بوائے فرینڈ کے ساتھ مصروف ہو اور عین اس وقت خاوند آ جائے تو وہ Sorry کہہ کر واپس چلا جاتا ہے، ان کو Disturb نہیں کرتا۔ لیکن اسلام اس بے حیائی اور بے غیرتی کی اجازت کسی قیمت پر نہیں دیتا۔ امید ہے آپ بھی ہماری رائے سے اتفاق کریں گے، آپ تو خود ان ممالک میں اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ کر سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-07-07


Your Comments