Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بینک میں ملازمت کرنے کی کوئی جائز صورت ہے؟

کیا بینک میں ملازمت کرنے کی کوئی جائز صورت ہے؟

موضوع: بینک کی ملازمت

سوال پوچھنے والے کا نام: تنویر احمد خان       مقام: سرگودھا

سوال نمبر 3127:
السلام علیکم! میں بینک میں‌ ملازمت کرتا تھا جو کہ اب چھوڑ چکاہوں‌۔ مجھے بینک میں‌ کام کرنا بہت پسند ہے، لیکن شریعت نے بینک ملازمت کو جائز قرار نہیں دیا اس لیے میں‌ نے بینک کی ملازمت چھوڑ دی۔ اب سوچ رہا ہوں کہ میرے بینک چھوڑنے سے بینک پر تو کوئی اثر نہیں پڑےگا۔ اگر بینک سودی کاروبار کر رہاہے تو اس کو روکنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ بینکنگ سسٹم میں‌ بینک کی ملازمت کرنےکی کوئی صورت بن سکتی ہے؟

جواب:

آپ کو بینک کی ملازمت اس وقت تک نہیں چھوڑنی چاہیے تھی جب تک کوئی اور ملازمت نہ مل جاتی۔ اب اگر کوئی اور ملازمت نہیں مل رہی ہے تو دوبارہ اسے شروع کر لیں۔ لیکن متبادل ملازمت کی تلاش جاری رکھیں۔ اگر سود سے پاک ملازمت مل جائے تو ا س کو چھوڑ دیں۔ بینک میں بھی اگر سود سےپاک ملازمت مل جائے تو کر سکتے ہیں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ جیسے PLS کے شعبہ میں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
کیا بینک میں‌ ملازمت کرنا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-04-19


Your Comments