Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا انڈیا دار الحرب ہے؟

کیا انڈیا دار الحرب ہے؟

موضوع: دارالاسلام میں میں سود   |  دار الکفر میں سود   |  دارالحرب میں سود

سوال پوچھنے والے کا نام: انجم شیخ       مقام: ممبی، انڈیا

سوال نمبر 3116:
السلام علیکم! میرے تین سوالات ہیں: ۱۔ کیا انڈیا دار الحرب ممالک میں سے ہے؟ ۲۔ جب قرض لینے کا کوئی اور راستہ نہ ہو، اُس صورت میں‌ سود پر قرض لینا کیسا ہے؟ ۳۔ انشورنس پالیسی یا ’’تحفظِ صحت پالیسی‘‘ لینا کیسا ہے؟

جواب:

پہلی بات تو یہ ہے کہ انڈیا دار الحرب نہیں ہے۔ دوسری یہ کہ اگر قرض ملنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ،تو آپ حالتِ اضطراری میں سود پر قرض لے کر استعمال میں لاسکتے ہیں۔ اور جہاں تک انشورنس کی بات ہے تو کسی بھی قسم کی انشورنس پالیسی لے سکتے ہیں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
انشورنس کے بارے میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا فتویٰ کیا ہے؟

کیا ہندوستان میں مقیم مسلمان سودی کاروبار کر سکتے ہیں؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-04-15


Your Comments