کیا غیر سنی دوست سے بات چیت کرنا بند کر دینی چاہیے؟

سوال نمبر:3036
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میری ایک دوست ہے وہ سنی مسلک سے نہیں‌ ہے میں‌ صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ ہم کیسے بول چال رکھ سکتی ہیں اور رکھ سکتی ہیں‌ یا نہیں میں‌ نے ایک مولانا صاحب سے پوچھا ہے اس نے جواب دیا کہ بول چال نہیں‌ رکھ سکتے میں نے بات کرنا چھوڑ دی مجھے ڈاکٹر صاحب کی رائے اس بارے میں‌ جاننی ہے کیونکہ میں‌ اور میری فیملی ان کو سنتے ہیں اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔

  • سائل: رابعہ علیمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 30 جنوری 2014ء

زمرہ: معاشرت

جواب:

ایسی کوئی بات نہیں ہے، آپ اپنے عقیدہ کے مطابق رہیں اور وہ اپنے عقیدہ کے مطابق رہے، بول چال رکھیں۔ لیکن اپنے عقیدے کی حفاظت کریں، قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں، عقیدہ کے حوالے سے اس کی باتوں میں نہ آئیں۔ آپ کا عقیدہ پختہ ہونا چاہیے، اگر وہ آپ سے ایسی کوئی بات کرے یعنی اپنے عقیدہ کے طرف بلائے تو پھر آپ اس سے معذرت کر لیں۔ لیکن اگر وہ آپ کو ایسی دعوت نہیں دیتی تو اس سے بول چال رکھیں، منع نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ آپ کے عقیدے کے خلاف کھل کر بولتی ہے تو پھر آپ اس سے بچ کہ رہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟