Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - ایک تعلیمی مصنف کا کام قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

ایک تعلیمی مصنف کا کام قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: نامعلوم       مقام: کولکتہ

سوال نمبر 2948:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ ایک تعلیمی مصنف کا کام قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ.

اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

(الْمَآئِدَة، 5 : 2)

اب ہمیں معلوم نہیں کام کس نوعیت کا ہے؟ اگر تو وہ ملک وقوم کی بہتری کے لیےاسلامی اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہے پھر تو اس کی مدد کی جا سکتی ہے چاہے وہ آپ کو معاون کے طور پر رکھے یا کسی بھی طرح آپ کے ساتھ تعاون کریں اس میں تو کوئی ممانعت نہیں۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ایسا مواد تیار کر رہا ہے جو ملک وقوم کے لیے بہتر ثابت نہیں ہو گا ایسی صورت میں تو اس کی مدد کرنا جائز نہیں ہو گی۔ اس کا فیصلہ آپ خود کریں کہ وہ کیا کام ہے اور کس کےلیے کر رہا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-11-29


Your Comments