Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مرثیہ و نوحہ پڑھنا اور سننا جائز ہے؟

کیا مرثیہ و نوحہ پڑھنا اور سننا جائز ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: شعیب شاہ       مقام: نا معلوم

سوال نمبر 2914:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اہل تشیع والے جو محرم میں نوحہ اور مرثیہ پڑھتے ہیں وہ سننا جائز ہے؟

جواب:

لفظ مرثیہ عربی لفظ ’رثا‘ سے مشتق جس کے معنی ہیں کسی کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کرنا۔ مرثیہ نگاری اردو شاعری کی ایک صنف کی حیثیت سے کسی عزیز کی وفات پر اظہارِ غم سے متعلق نظم کو کہا جاتا ہے، مگر اصطلاحاً مرثیہ اس نظم سے مقصود ہے جس کا تعلق میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے رفقاء کی شہادت کے موضوع سے ہو۔

حمد و نعت کی طرح مرثیے کے الفاظ کا چناؤ اس کی حیثیت کا فیصلہ کرتا ہے۔ مرثیہ کا مضمون ایسا ہونا چاہیے جس میں شہدائے کربلاء کی عظمت، ان کی شہادت کے محرکات، شہادت کے مصدقہ واقعات اور اس کے اثرات کو بلامبالغہ بیان کیا گیا ہو۔ محبتِ اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کی آڑ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال نہ کیے گئے ہوں۔ ہماری دانست میں مرثیہ و نوحہ کہنے، سننے اور پڑھنے کا فیصلہ کلام پر منحصر ہے، اگر کلام معیاری ہے، اس میں شرعی حدود و قیود کا خیال رکھا گیا اور اس کے الفاظ تاویل قبول کرتے ہیں تو مرثیہ و نوحہ سننا اور پڑھنا جائز ہے، ورنہ نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-11-16


Your Comments