Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - فیملی سے باہر شادی کرنا کیسا ہے؟

فیملی سے باہر شادی کرنا کیسا ہے؟

موضوع: معاملات  |  نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: عرفان الہی       مقام: انڈیا

سوال نمبر 2792:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ فیملی سے باہر شادی کرنا کیسا عمل ہے؟ لڑکی کی عمر شادی کے وقت لڑکے سے زیادہ یا کم ہو کیا اس سے شرعی طور پر کوئی فرق پڑتا ہے؟

جواب:

مسلمان لڑکا، مسلمان، یہودی اور عیسائی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے،خواہ فیملی میں ہو یا فیملی سے باہر۔ جبکہ مسلمان لڑکی کا نکاح صرف مسلمان لڑکے سے ہی ہو سکتا ہے۔ یاد رہے یہودی یا عیسائی لڑکی جو مسلمان سے یہودی یا عیسائی ہو جائے اس کا نکاح بھی مسلمان لڑکے سے نہیں ہو سکتا، یعنی وہ لڑکی نسلی یہودی یا عیسائی ہو یا پھر اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب سے اس نے یہ مذہب اختیار کیا ہو یا پھر قرآن وحدیث کے مطابق جو مسلمان رشتے آپ کے لیے حرام ہیں، ان کے علاوہ فیملی میں شادی کریں یا فیملی سے باہر شریعت میں کوئی پابندی نہیں ہے۔

شرعی طور پر عمر کی بھی کوئی پابندی نہیں ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں، دونوں رضامند ہوں اور ان کی مرضی سے حق مہر کے عوض دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا ضروری ہے۔ دونوں کی عمر برابر ہو یا ایک کی کم دوسرے کی زیادہ، لیکن دونوں ایک دوسرے کو پسندکرتے ہوں تو جائز ہے، شادی کر سکتے ہیں۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ دونوں کی عمریں برابر یا لڑکی کی عمر کچھ کم ہو مناسب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-09-09


Your Comments