Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اسکائپ پر نکاح پڑھایا جا سکتا ہے؟

کیا اسکائپ پر نکاح پڑھایا جا سکتا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: خان قادری       مقام: اسلام آباد، پاکستان

سوال نمبر 2751:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی نے نکاح پڑھا نے والے کو تحریری طور لکھ کر دیا (ان کو وکیل بنایا) کہ آپ دو گواہوں کی موجودگی میں مقررہ مہر کے ساتھ نکاح پڑھائیں۔ نکاح پڑھانے والا دو گواہوں کی موجودگی میں بذریعہ skype نکاح پڑھاتا ہے۔ نکاح کے وقت لڑکا اور لڑکی کے علاوہ ان کے والدین اور بھائی بھی موجود ہے۔ نکاح خوان skype پر ان سے کہتا ہے کہ قبو ل ہے لڑکا اور لڑکی جواب ہاں میں دیتے ہیں۔ اس کے بعد خطبہ اور دعا مانگتے ہیں۔ نکاح خوان کے پاس لڑکا اور لڑکی کا شناختی کارڈ، لڑکی کے والد کا شناختی کارڈ، لڑکے کے والد کا شناختی کارڈ بھی موجود ہے اور وکالت نامہ بھی۔ نکاح کے وقت دو مرد (والد اور بھائی) اور لڑکی بھی موجود ہے مگر والد نکاح کے وقت وکیل کے طور پر موجود ہے اور بھائی گواہ کے طور پر جبکہ دوسرا گواہ بذریعہ فون تقریب نکاح میں شریک ہے۔ کیونکہ وہ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں آ سکا اور بعد میں ان سے نکاح فارم پر بطور گواہ دستخط بھی لیا جاتا ہے۔ کیا اس صورت میں نکاح ہو جاتا ہے؟

جواب:

اگر لڑکے اور لڑکی کے علاوہ نکاح کے وقت دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کیا ہے تو نکاح ہو گیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-09-09


Your Comments