Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - سلام پھیرتے وقت السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی بجائے “السلام علیکم یا بشر“ کہنا کیسا ہے؟

سلام پھیرتے وقت السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی بجائے “السلام علیکم یا بشر“ کہنا کیسا ہے؟

موضوع: عبادات  |  نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: عبداللہ       مقام: مردان

سوال نمبر 2732:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے ایک قاضی صاحب نے سلام پھیرتے وقت السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی بجائے “السلام علیکم یا بشر“ کہا؟ اصل شر عی مسئلہ کیا ہے؟ ایسے لوگوں کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

نماز سے فارغ ہونے کے لیے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنا سنت ہے اور اسی پر اجماع امت ہے۔ اس پر کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ اگر قاضی صاحب نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو انہوں نے خلاف سنت عمل کیا ہے۔ وہ بدعتی ہیں اور معاشرے میں فتنہ فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-08-22


Your Comments