سلام پھیرتے وقت السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی بجائے “السلام علیکم یا بشر“ کہنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:2732
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے ایک قاضی صاحب نے سلام پھیرتے وقت السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی بجائے “السلام علیکم یا بشر“ کہا؟ اصل شر عی مسئلہ کیا ہے؟ ایسے لوگوں کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

  • سائل: عبداللہمقام: مردان
  • تاریخ اشاعت: 22 اگست 2013ء

زمرہ: عبادات  |  نماز

جواب:

نماز سے فارغ ہونے کے لیے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنا سنت ہے اور اسی پر اجماع امت ہے۔ اس پر کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ اگر قاضی صاحب نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو انہوں نے خلاف سنت عمل کیا ہے۔ وہ بدعتی ہیں اور معاشرے میں فتنہ فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟