Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - طلاق کی نیت کے بغیر کنایہ الفاظ بولنے پر کیا حکم ہے؟

طلاق کی نیت کے بغیر کنایہ الفاظ بولنے پر کیا حکم ہے؟

موضوع: طلاق   |  طلاق بائن

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد افضال       مقام: ابو ظہبی

سوال نمبر 2704:
السلام عیکم میرا نام محمد افضال ہے میرا اور میری بیوی کا پانچ چھ دن پھلے فون پر لڑائی ہوئی اور اس نےکہا کے مجھے فارغ کر دو تو میں نے اس کو غصہ سے کہا کہ میں تم کو فارغ کر دوں گا اور اُس کو کہا کہ میری امی کو فون دو اور امی کو کہا کہ اس کو سامان کے ساتھ اس کے گھر چھوڑ آو، اب میری بیوی کہتی ہے کے افضال نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے، جب کے میرا مطلب یہ نہ تھا، میں اس کو ڈرا رہا تھا کے اَگے سے یہ لفظ نہ کہے، اس مسلے کا حل بیان فرما دیں۔

جواب:

اگر تو آپ نے کہا ہے کہ (میں تم کو فارغ کر دوں گا) اس سے تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔ لیکن دوسری صورت اگر وہ آپ کو یہ کہہ رہی تھی کہ (مجھے فارغ کر دو) تو آپ نے اپنی والدہ کو کہا کہ اس کو سامان کے ساتھ (یعنی جو جہیز وغیرہ ہے) اس کے گھر چھوڑ آؤ، اس سے بھی طلاق بائن ہو جاتی ہے کیونکہ وہ ڈیمانڈ کر رہی ہے، آپ نے اس کو پورا کر دیا ہے۔ دوبارہ نکاح کے بغیر رجوع ممکن نہیں ہے، اگر یہ پہلی طلاق ہے تو۔ اگر پہلے بھی کوئی طلاق دی ہوئی ہے تو مسئلہ الگ ہو گا۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
طلاق کی نیت کے بغیر 'تم میری طرف سے آزاد ہو' کہنا کیسا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-08-24


Your Comments