اپنے مسلک کا پرچار کہاں تک جائز ہے؟

سوال نمبر:2668
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اپنے مسلک کا پرچار کہاں تک جائز ہے؟

  • سائل: شفقت حسینمقام: صفدرآباد، پنجاب (پاکستان)
  • تاریخ اشاعت: 29 نومبر 2013ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے مطابق جس پر سواد اعظم نے عمل کیا اس کا پرچار کرنا فرض ہے۔ جو ان قوانین اور اصولوں سے ہٹ کر قوم کو گمراہ کرے وہ غلط ہے، اس کا پرچار کرنا بھی جائز نہیں۔ لہذا چاروں مسالک حق ہیں ان کا پرچار کرنا بھی حق ہے۔ کوئی ان میں سے جس مسلک پر بھی عمل پیرا ہے اسی کا جہاں تک ہو سکے پرچار کر سکتا ہے جائز ہے۔ لیکن قوم میں فتنہ فساد نہ پھیلائے۔ حکمت کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟