Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اپنے مسلک کا پرچار کہاں تک جائز ہے؟

اپنے مسلک کا پرچار کہاں تک جائز ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: شفقت حسین       مقام: صفدرآباد، پنجاب (پاکستان)

سوال نمبر 2668:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اپنے مسلک کا پرچار کہاں تک جائز ہے؟

جواب:

اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے مطابق جس پر سواد اعظم نے عمل کیا اس کا پرچار کرنا فرض ہے۔ جو ان قوانین اور اصولوں سے ہٹ کر قوم کو گمراہ کرے وہ غلط ہے، اس کا پرچار کرنا بھی جائز نہیں۔ لہذا چاروں مسالک حق ہیں ان کا پرچار کرنا بھی حق ہے۔ کوئی ان میں سے جس مسلک پر بھی عمل پیرا ہے اسی کا جہاں تک ہو سکے پرچار کر سکتا ہے جائز ہے۔ لیکن قوم میں فتنہ فساد نہ پھیلائے۔ حکمت کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-11-29


Your Comments