قرآن پاک سیکھنے کی رسائی نہ ہونے پر کیا گناہ ہو گا؟

سوال نمبر:2583
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ پہلے ہم جس گھر میں‌ رہتے تھے وہاں میری امی ترجمہ کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے جاتی تھی مگر اب ہم نے گھر تبدیل کر دیا تو جس گھر میں‌ وہ پڑھنے جاتی تھی وہ دور ہو گیا ہے اب وہ وہا‌ں‌ جا نہیں‌ سکتی ہیں لیکن ان کا قرآن مجید سیکھنے کا بہت جی چاہتا ہے۔ ابو کی طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں‌ ہے۔ اب ہمیں‌ یہ بتائیں‌ کہ وہ اس گھر میں‌ نہ جا سکیں‌ تو کیا گناہ ہو گا؟

  • سائل: حسن رحمانمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 20 مئی 2013ء

زمرہ: عبادات  |  تلاوت‌ قرآن‌ مجید

جواب:

جس طرح بچوں کو آپ لوگ گھر تبدیل کرنے کے بعد نئی جگہ سکول میں بھی نئی جگہ داخل کرواتے ہیں اور باقی معلاملات کا بھی حل نکال لیتے ہیں تو اسی طرح قرآن پاک کی تعلیم کے لیے بھی کوئی مناسب جگہ تلاش کر لیں، اس سے فائدہ ہو گا۔ لیکن یہ خیال رکھنا قرآن پاک کا ترجمہ کسی صحیح العقیدہ سے پڑھنا تاکہ آپ لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ لہذا وقت میسر ہے تو کوئی مناسب جگہ تلاش کر لیں۔ تاکہ آپ کی والدہ اللہ تعالی کے کلام کو سمجھ سکیں۔ آپ جگہ ڈھونڈنے کی پوری کوشش کریں اس کے باوجود اگر کوئی جگہ نہ ملے تو گناہ نہیں ہو گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟