ہر نماز کے بعد رسول اللہ (ص) کی بارگاہ میں‌ سلام پیش کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:2563
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ ایک مرتبہ میری نانی امی نے مجھ سے کہا کہ ہر نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ رسالت میں‌ سلام پیش کیا کروں۔ تو کیا ایسے کہنا کہ آتے جاتے رحمت کے فرشتوں چلتے پھرتے، سیر کرتے ہوئے، اللہ کو میری طرف سے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم، استغفار اور اللہم اجرنی من النار اور پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ودرود شریف اور تمام امہات المؤمنین، تمام انبیاء کرام علیہم السلام، تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیاء کرام رحمۃ‌ اللہ علیہ کی بارگاہ میں سلام پیش کرنا۔۔۔ کیا ہر نماز کے بعد ایسا کرنا صحیح ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

  • سائل: نازیہمقام: لندن
  • تاریخ اشاعت: 20 مئی 2013ء

زمرہ: درود و سلام

جواب:

ہر نماز کے بعد مسنون دعائیں مانگنا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجنا اور ساتھ تمام انبیاء کرام علیہم السلام، امہات المؤمنین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم اور تمام مومنین پر سلام پیش کرنا، خوش بخت اور سعادت مند ہونے کی دلیل ہے، ایسا عمل کرنا جائز ہے، صحیح ہے بلکہ ہماری بخشش کا سبب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟