Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا باپ اولاد کو اپنی جائیداد سے عاق کر سکتا ہے؟

کیا باپ اولاد کو اپنی جائیداد سے عاق کر سکتا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  وراثت کی تقسیم

سوال پوچھنے والے کا نام: مستقیم چوہدری       مقام: ابو ظہبی، متحدہ عرب عمارات

سوال نمبر 2546:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی اپنے اولاد کو اپنی جائیداد سے عاق کر سکتا ہے؟ جیسے ہم اخبارات میں اکثر دیکھتے ہیں کہ میں‌ اپنے فلاں بیٹے کو نافرمانی کی وجہ سے اپنی ساری جائیداد اور مال سے عاق کرتا ہوں۔۔۔ برائے مہربانی یہ بتائیں کہ کیا شریعت میں‌ اس کے لیے کوئی حکم ہے؟

جواب:

اس عاق کرنے سے مراد صرف یہ معنی لیا جائے گا کہ باپ کی زندگی میں بیٹے نے جو لین دین کیا یا کوئی بھی اور کام کیا، اس کا وہ خود ہی ذمہ دار ہو گا، باپ نہیں ہو گا۔ لیکن اس عاق نامہ کی وجہ سے بیٹے کو جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جائیداد میں اس بیٹے کو بھی دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ہی حصہ ملے گا۔ لہذا عاق نامہ کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-04-23


Your Comments