Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا چوری کی لائٹ مسجد میں‌ استعمال کی جا سکتی ہے؟

کیا چوری کی لائٹ مسجد میں‌ استعمال کی جا سکتی ہے؟

موضوع: مسجد   |  مسجد کے آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: اعظم میر خان       مقام: انڈیا

سوال نمبر 2431:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ جس مسجد میں چوری کی لائٹ استعمال ہو رہی ہو کیا اس میں نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب:

قرآن مجید میں ہے :

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ.

بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔

(العنکبوت، 29 : 45)

فرمان الہی سے معلوم ہوا کہ نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ جو نماز برے کاموں سے نہ روکے سمجھ لیں وہ قبول بھی نہیں ہوئی۔ یہ بات باعث شرم ہے کہ اللہ کے گھر میں بھی بجلی چوری کی استعمال کی جائے اور وہاں نمازیں بھی پڑھی جائیں۔ اہل علاقہ کا فرض بنتا ہے کہ مسجد میں بجلی جائز طریقے سے لگائی جائے۔ تاکہ مسجد کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جائے اور ذمہ دار لوگوں کو گناہگار ہونے سے بھی بچایا جائے۔ لہذا مذکورہ مسجد میں نماز تو جائز ہے لیکن با اثر افراد کا فرض ہے کہ مسجد میں قانون کے مطابق جائز ذرائع سے بجلی کا بندوبست کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-06-15


Your Comments