Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بینک سے ملنے والا منافع سود ہوتا ہے؟

کیا بینک سے ملنے والا منافع سود ہوتا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: اللہ بخش نون       مقام: صادق آباد، پاکستان

سوال نمبر 2424:
السلام علیکم میں ایک فیکٹری میں ملازم ہوں۔ ہر فیکٹری اپنے ملازمین کو اپنے سالانہ منافع سے پانچ فیصد حصہ دیتی ہے۔ یہ رقم تمام ملازمین میں تقسیم کی جاتی ہے۔ تقسیم سے پہلے یہ رقم چار افراد پر مشتمل کمیٹی جو کہ دو انتظامیہ اور دو ملازمین سے ہوتے ہیں ان کے مشترکہ بینک اکاونٹ میں نو ماہ کے لیے جمع کرا دی جاتی ہے۔ اب کل رقم جو کہ نو ماہ کا منافع اور اصل رقم تمام ملازمین میں تنخواہ کے حساب سے تقسیم کر دی جاتی ہے۔ اگر کمیٹی چاہے تو وہ رقم نو ماہ بینک میں رکھے بغیر بھی تقسیم کر سکتی ہے۔ اس رقم کو ڈبلیو پی پی ایف کہتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کیا یہ سود ہے؟ یا اصل رقم ٹھیک اور بینک منافع سود ہے؟

جواب:

یاد رکھیں اگر بینک میں رقم متعین شرح سود کے ساتھ رکھی جائے اوپر والی رقم سود ہو گی۔ اس کے برعکس اگر PLS اکاؤنٹس میں رکھی جائے تو اس میں شرح سود متعین نہیں ہوتی۔ یہ جائز ہوتی کیونکہ اس میں نفع ہو تو نفع ہوتا ہے، نقصان ہو تو نقصان بھی دونوں طرف ہوتا ہے یہ سود نہیں ہوتا۔ اگر تو ایسا ہے اس کو سود نہیں کہیں گے۔ اس لیے ان کو چاہیے PLS اکاؤنٹس میں رکھیں تاکہ سود سے رقم پاک حاصل کر سکیں۔

لہذا متعین کر کے سالانہ یا ماہانہ بنیادوں پر لی جانے والی رقم سود ہو گی، اگر نفع و نقصان کی شراکت کے ساتھ رقم جمع کروائی سود نہیں ہو گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-03-13


Your Comments