کیا خاوند بیوی کو حج پر جانے سے روک سکتا ہے؟

سوال نمبر:2378
السلام علیکم میرا ایک دوست یواے ای میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے اور 2013 یا 2014 میں حج پر جانے کا خواہشمند ہے، لیکن اس کی ساس اور سسر اپنی بیٹی کو اپنے خرچے پر حج پر اکیلے لے کر جانا چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنی بیوی کو ان کے ساتھ بھیجنا نہیں چاہتا ہے۔ ان کے تین بچے بھی ہیں‌ جن کی عمریں 10 سال، 6 سال اور 01 سال ہیں۔ اس کے سسرال والے پریشر ڈال رہے ہیں کہ اللہ کی طرف سے دعوت ہے اور میرا دوست گنہگار ہو گا اگر اس نے اپنی بیوی کو اجازت نہ دی۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ اپنی بیوی کو اس کے والدین کے ساتھ حج پر جانے کی اجازت نہ دے تو کیا وہ گنہگار ہو گا۔ برائے مہربانی اس کے لیے قرآن وحدیث سے وضاحت فرمائیں‌ تاکہ وہ یہ فتوی اپنے مستقبل کے فیصلے کے لیے استعمال کر سکے

  • سائل: مستقیم چودھریمقام: ابو ظہبی، متحدہ عرب امارات
  • تاریخ اشاعت: 01 جنوری 2013ء

زمرہ: زوجین کے حقوق و فرائض  |  حج

جواب:

اگر بیوی کے والدین اپنے خرچے پر اسے اپنے ساتھ حج کے لیے لے جاتے ہیں تو اس میں کون سی منع کرنے والی بات ہے، نیکی کا کام ہے۔ خاوند منع کرے گا تو گنہگار ہو گا۔ لیکن ہمیں منع کرنے کی وجہ معلوم نہیں کہ کیا وجہ ہے لہذا منع نہ کرے بلکہ اجازت دے دے اس کا بھی بھلا ہو گا اور آپ کو بھی اس کا اجر ملے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟