Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اسمائے مقدسہ کہاں لٹکانا جائز ہیں؟

اسمائے مقدسہ کہاں لٹکانا جائز ہیں؟

موضوع: متفرق مسائل  |  جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد سہیل       مقام: عمان، مسقط

سوال نمبر 2327:
بعض لوگ گھروں کے کمروں، ہوٹلوں اور دفتروں میں قرآنی آیات اور احادیث نبویہ لٹکاتے ہیں اور اسی طرح ہاسپٹل اور ڈسپینسریوں میں اللہ تعالی کے اس فرمان (واذا مرضت فھو یشفین) وغیرہ لٹکاتے ہیں۔ کیا ان کا لٹکانا ممنوعہ تعویذوں میں شمار ہوتا ہے؟ اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ برکت کا نزول ہو، شیطان اور جنوں کو بھگایا جائے، یہ بھی قصد ہوتا ہے کہ بھولے ہوئے کو یاد کروایا جائے، غافل کو متنبہ کیا جائے اور کیا تبرک کے لیے گاڑی میں مصحف رکھنا بھی تعویذ میں شامل ہے؟

جواب:

کلام الہی اور مسنون دعائیں وغیرہ ممنوعہ تعویزوں میں شمار نہیں ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے بابرکت کلام ہیں۔ لہذا پاک جگہوں پر لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے، لٹکا سکتے ہیں اور گاڑی میں بھی رکھ سکتے ہیں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
دم درود کے عوض پیسے لینا کیسا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-12-13


Your Comments