کیا کسی بینک کو اپنی عمارت کرائے پر دی جا سکتی ہے؟

سوال نمبر:2291
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی بینک کو اپنی عمارت کرائے پر دی جا سکتی ہے؟

  • سائل: ڈاکٹر شرافت علیمقام: جہلم
  • تاریخ اشاعت: 15 جون 2013ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

بینک کے لیے عمارت کرائے پر دی جا سکتی ہے، یہ جائز ہے۔ صاحبِ الہدایہ فرماتے ہیں کہ اگر آپ مکان کرائے پر دیں، اور کرایہ دار وہاں بت خانہ، کلیسا یا شراب خانہ بھی بنا لے، تو آپ پر گناہ نہیں ہوگا۔

مرغینانی، الهدایه، 4 : 472، طبع کراچی

اس لیے بینک کو بھی گھر یا عمارت کرایہ پر دی جا سکتی ہے، چاہے وہ سودی کاروبار ہی کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟