Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کسی بینک کو اپنی عمارت کرائے پر دی جا سکتی ہے؟

کیا کسی بینک کو اپنی عمارت کرائے پر دی جا سکتی ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: ڈاکٹر شرافت علی       مقام: جہلم

سوال نمبر 2291:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی بینک کو اپنی عمارت کرائے پر دی جا سکتی ہے؟

جواب:

بینک کے لیے عمارت کرائے پر دی جا سکتی ہے، یہ جائز ہے۔ صاحبِ الہدایہ فرماتے ہیں کہ اگر آپ مکان کرائے پر دیں، اور کرایہ دار وہاں بت خانہ، کلیسا یا شراب خانہ بھی بنا لے، تو آپ پر گناہ نہیں ہوگا۔

مرغینانی، الهدایه، 4 : 472، طبع کراچی

اس لیے بینک کو بھی گھر یا عمارت کرایہ پر دی جا سکتی ہے، چاہے وہ سودی کاروبار ہی کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-06-15


Your Comments