Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حلال جانور کے مکروہ اعضاء کون سے ہیں؟

حلال جانور کے مکروہ اعضاء کون سے ہیں؟

موضوع: وہ اشیاء جن کا استعمال مکروہ ہے

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد نعیم اللہ       مقام: لاہور

سوال نمبر 2262:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ جانور جب ذبح کرتے ہیں تو اسکی دس چیزیں {کھا نے والے حصے} مکروہ ہوتی ہیں۔ جیسے کان٫ آنکھ وغیرہ وغیرہ۔ آپ ان سارے حصوں کے نام بتا دیں؟

جواب:

حلال جانور کے حرام اجزاء

جن جانوروں کاگوشت کھانا حلال ہے ان کے سات اجزاء مکروہ ہیں :

  1. الدّم (بہتا خون)
  2.  آلہ تناسل
  3. خصیئے
  4. پیشاب گاہ
  5. گلٹی
  6. مثانہ
  7. پتہ

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ.

’’وہ (رسول) ستھری چیزیں ان کیلئے حلال فرماتے اور گندی چیزیں اُن پر حرام کرتے ہیں‘‘۔

الاعراف، 7 : 157

مذکورہ بالا سات چیزیں ایسی ہیں جنہیں صحت مند طبیعتیں خبیث سمجھتی ہیں، لہٰذا حرام ہیں۔

وروی عن مجاهد رضی اﷲ تعالی عنه أنه قال کره رسول اﷲ من الشاة الذکر والانثيين والقبل والغدة والمررة والمثانة والدم.

’’مجاہد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے یہ اجزاء مکروہ قرار دئیے۔ آلہ تناسل، خصیئے، اگلی پیشاب گاہ، گلٹی، پتہ، مثانہ اور خون‘‘۔

کراہت سے مراد، کراہت تحریمہ ہے دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خون کے ساتھ باقی چھ چیزیں بھی جمع فرمائیں اور بہتا خون تو حرام ہے، لہٰذا یہ بھی حرام ہیں۔

امام ابو حنیفہ رضی تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ خون حرام ہے اور میں چھ چیزوں کو مکروہ سمجھتا ہوں۔

اطلق اسم الحرام علی الدم المسفوح و سمی ما سواه مکروها.

’’آپ نے بہتے خون پر حرام کا نام بولا اور باقی چھ کو مکروہ کہا‘‘۔

لان الحرام المطلق ماثبت حرمته بدليل مقطوع به وحرمه الدم المسفوح قد ثبتت بدليل مقطوع وهو النص المفسر من الکتاب العزيز قال اﷲ تعالٰی عز شانه {قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآاُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا} اِلی قوله عز شانه {اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْر} وانعقاد الاجماع ايضا علی حرمته فأما حرمة ما سواه من الأشياء الستة فماثبتت بدليل مقطوع به بالاجتهاد او بظاهر الکتاب العزيز المحتمل للتاويل أو الحديث لذلک فصل بينهما فی الاسم فسمی ذلک حراما وذا مکروها.

’’اس لئے کہ حرام مطلق وہ ہے جس کی حرمت (حرام ہونا) دلیل قطعی سے ثابت ہو اور بہتے خون کا حرام ہونا تو دلیل قطعی سے ثابت ہے اور وہ کتاب عزیز (قرآن کریم) کی نص مفسّر ہے، اللہ تعالی نے فرمایا :

قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ.

’’اے حبیب مکرم آپ فرمائیں : میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام، مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا خنزیر کا گوشت یہ وہ نجس ہے‘‘۔

(الْأَنْعَام، 6 : 145)

اور اس کی حرمت پر اجماع امت بھی ہے۔ رہا باقی چھ چیزوں کا حرام ہونا تو وہ دلیل قطعی سے ثابت نہیں بلکہ اجتہاد یا قرآن عزیز کی ظاہری نص سے (وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰئِثَ) جس میں تاویل کا احتمال ہے۔

یا مذکورہ بالا حدیث پاک سے اسی لئے دونوں میں فرق کیا گیا ہے بہتے خون کو حرام اور باقی چھ چیزوں کو مکروہ کا نام دیا گیا ہے۔

  1. علاء الدين الکاسانی، بدائع الصنائع، 5 : 61، دار الکتاب العربی بيروت

  2. ابن نجيم، البحر الرائق، 8 : 553، دار المعرفة، بيروت

  3. ابن عابدين شامی، رد المحتار، 6 : 749، دار الفکر، بیروت

  4. الشيخ نظام الدين و جماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 5 : 290، دار الفکر

قاعدہ :

لا يلزم من ترک المستحب ثبوت الکراهة اِذ لابد لها من دليل خاص.

’’مستحب کے ترک سے کراہت ثابت نہیں ہوتی اس کے لئے دلیل خاص ضروری ہے‘‘۔

  1. 1بن نجيم، البحر الرائق، 2 : 176

  2. ابن عابدين شامی، رد المحتار، 1 : 124

خلاصہ مبحث :

حرمت کے ثبوت کیلئے نص قطعی یا علت شرعی مطلوب ہے۔ بہتے خون (دم مسفوح) کی حرمت کیلئے تو قرآن کی نص قطعی موجود ہے۔ مگر باقی چھ چیزوں کی حرمت شرعی کی کوئی دلیل قطعی نہیں نہ کوئی علت مشترکہ ہے۔ لہٰذا خون کے سوا باقی چیزوں کو مکروہ طبعی کہا جائے گا کہ طبیعت سلیمہ ان کو پسند نہیں کرتی۔ جس کی وجہ واضح ہے کہ عموماً ان کو اچھی طرح صاف نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اعضاء سے بدبو آتی ہے جیسے اوجھری وغیرہ اور اگر محنت کر کے گرم پانی میں ڈال کر گندا کور (cover) اتار کر چھری وغیرہ سے رگڑ کر اس کور کو تمام آلائشوں سے پاک صاف کر لیا جائے، نمک اور بیسن لگا کر کچھ وقت پانی نچڑنے دیا جائے، میٹھا سوڈا بھی استعمال کیا جائے، پھر پکایا جائے اور چھوڑا ہوا پانی بہا دیا جائے، ڈھکن اتار کر بھاپ نکال لی جائے۔ دوبارہ صاف پانی سے تمام گوشت دھو لیا جائے۔ جو لوگ اتنی محنت نہیں کرتے اور عام گوشت سبزی وغیرہ کی طرح واجبی سا دھو کر اوجھری پکا لیتے ہیں، نہ صفائی ہوئی نہ smell ختم ہوئی نہ آلائشوں کا ازالہ ہوا، اسے کونسی نفاست پسند طبیعت پسند کرے گی؟ یہ طبعا مکروہ ہی ہوگی۔ دم مسفوح کے علاوہ باقی چھ چیزوں کی کراہت بھی طبعی ہے، جو اچھی طرح صاف کرنے سے زائل ہو سکتی ہے، لیکن دم مسفوح کی کراہت قطعی ہے۔ لہٰذا یہ حرام اور باقی اشیاء کی کراہت طبعی ہے، جس کا ازالہ اچھی طرح صفائی سے ہو سکتا ہے۔ ان چھ چیزوں کا کھانا خون کی طرح حرام قطعی و شرعی ہرگز نہیں۔ ہمارا پہلا نظریہ جو منہاج الفتاوی جلد دوم، صفحہ 573 پر مجملاً لکھا گیا تھا اور سات اعضاء کو بغیر وضاحت کے ذکر کیا گیا تھا، اس سے ابہام پیدا ہوا اور کئی حضرات نے استفسار کیا میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ دلیل سے میری غلطی پر مجھے متوجہ کیا جائے اور میں اسے برا مانوں ایسا میری طبیعت میں نہیں، اگر کسی کو میری کسی مبہم بات سے ذہنی پریشانی ہوئی ہو تو میں خدا و خلق دونوں سے معافی کا خواستگار ہوں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-11-21


Your Comments