Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - مرنے والے کا سوگ کتنے دن تک جائز ہے؟

مرنے والے کا سوگ کتنے دن تک جائز ہے؟

موضوع: معاملات  |  سوگ کی حد

سوال پوچھنے والے کا نام: اظہر حسین       مقام: راولپنڈی

سوال نمبر 2137:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ مرنے والے کا سوگ کتنے دن تک جائز ہے؟

جواب:

  1. اسلام میں سوگ منانا جائز ہے اور تین دن تک سوگ منایا جا سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ لوگ آئیں فاتحہ پڑھیں، اظہار تعزیت کریں اس سے سوگوار خاندان کو ہمدردی ومحبت کا احساس ہوتا ہے۔
  2. ایسی عورت جس کا خاوند فوت ہو جائے تو اس کے لیے حکم ہے کہ وہ چار ماہ اور دس دن تک سوگ منائے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے۔

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

(الْبَقَرَة ، 2 : 234)

اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے آپ کو چار ماہ دس دن انتظار میں روکے رکھیں۔

لہذا خاوند کے فوت ہونے کے بعد عورت چار ماہ اور دس دن تک سوگ منائے گی۔ یہی اس کی عدت ہے اس دوران وہ کہیں نکاح نہیں کر سکتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-09-18


Your Comments