Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا گھر کی نیت سے لیے گئے پلاٹ پر زکوۃ ادا کی جائے گی؟

کیا گھر کی نیت سے لیے گئے پلاٹ پر زکوۃ ادا کی جائے گی؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  فرضیت زکوۃ   |  نصاب زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد خالد       مقام: جدہ

سوال نمبر 2079:
السلام علیکم میرا مسئلہ زکوۃ کے حوالے سے ہے۔ میرے پاس 3 پلاٹ ہیں میں نے تینوں پلاٹ کو گھر کی نیت سے لیا تھا مگر ابھی تک پکا نہیں ہو سکا کے گھر کس پر بنانا ہے۔ پتا نہیں کس پر گھر بناؤں کس کو بیچ دوں، یا نہ بیچوں ابھی کچھ پکا نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کل کو بیچ بھی دوں گھر بنا کر باقی پلاٹوں کو کیا ان پر زکاۃ ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ میری زکوۃ 5،000 ریال بنتی ہے اور آمدن ماہانہ 4،000 ریال ہے تو کیا میں زکاۃ دوں گا؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ کمائی باپ اور بیٹے نے مل کر کی ہے تو زکاۃ کس طرح نکالنی ہے؟

جواب:

  1. آپ کے پلاٹس پر زکوۃ نہیں ہے۔
  2. آپ کے پاس رقم پہلے بھی موجود ہے اور نئی آمدن کی بھی لہذا ساری آمدن کو ملا کر جتنی زکوۃ بنتی ہے ادا کر دیں۔
  3. باپ بیٹا اگر مل کر کمائی کریں اور مال مشترک ہو تو مشترک زکوۃ ادا کریں گے۔ اور اگر مال الگ الگ ہے تو ہر ایک اپنے اپنے حصے سے زکوۃ ادا کرے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-09-06


Your Comments