Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کوئی صوفی بزرگ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے مبرا ہو سکتا ہے؟

کیا کوئی صوفی بزرگ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے مبرا ہو سکتا ہے؟

موضوع: روحانیات  |  تصوف   |  شریعت و طریقت

سوال پوچھنے والے کا نام: عبدالرؤف       مقام: بنگلہ دیش

سوال نمبر 1926:
السلام علیکم شریعت کے بغیر معرفت کا کیا حکم ہے؟ کیا کوئی صوفی بزرگ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے مبرا ہو سکتا ہے؟ کیا اس پر نماز روزہ وغیرہ معاف ہو سکتے ہیں؟ بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کاموں سے پاک ہیں اور ان کو شریعت نے چھوٹ دے رکھی ہے۔ ان کو نماز وغیرہ میں‌ شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ براہ مہربانی میرے ان سوالوں کا جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں۔

جواب:

  1. شریعت کے بغیر معرفت نہیں ہو سکتی۔ اور بغیر شریعت کے معرفت کا دعوی کرنے والا شخص جھوٹا ہوتا ہے۔

  2. کوئی بھی کامل ولی، صوفی بزرگ تارک نماز نہیں ہو سکتا۔ جو تارک نماز ہو یا شریعت پر عمل پیرا نہ ہو یا ارکان اسلام پر عمل پیرا نہ ہو تو وہ شخص ولی اور صوفی نہیں ہو سکتا۔ایسا شخص جھوٹا ہے اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ اور اگر کوئی شریعت کی مخالفت کر رہا ہے تو وہ شیطان ہے۔ ولی اور صوفی اور بزرگ یعنی ولایت اور تصوف کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

  3. جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں نماز پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں، وہ گناہوں سے پاک ہیں نہ اسلام کے بنیادی اراکین پر پابندی کی کوئی ضرورت نہیں، تو ایسے لوگ شیطان کے دوست ہیں۔ شیطان کی پیروی اور اتباع کرنے والے ہیں۔ اللہ کے ولی نہیں ہو سکتے۔

اسلام کے اندر کوئی بھی ایسا شخص نہیں کہ وہ اس مقام پر فائز ہو کہ اس پر نماز پڑھنا فرض نہ ہو یا شریعت پر عمل کرنا فرض نہ ہو۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز معاف نہیں ہوئی تو پھر کسی امتی پر نماز کیسے معاف ہو سکتی ہے۔ ایسا کہنے والے کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اسلام اور تصوف کو بدنام کرنے والے ہیں۔ شیطان کے دوست ہیں۔ اولیاء کرام اور صوفیاء کرام کے اوصاف اور خصوصیات قرآن  وحدیث سے ثابت ہیں جو ہر وقت یاد الہی میں مصروف رہتے ہیں۔

مزید مطالعہ کے لیے نیچے دیئے گئے عنوانات پر کلک کریں

تصوف وطریقت کی تفصیل جاننے کے لئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتب تصوف کا مطالعہ کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-07-07


Your Comments