Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا طلاق دینے کے بعد معافی مانگنے سے طلاق واقع نہیں‌ ہوتی؟

کیا طلاق دینے کے بعد معافی مانگنے سے طلاق واقع نہیں‌ ہوتی؟

موضوع: طلاق   |  اقسام طلاق   |  تفویض طلاق   |  طلاق صریح   |  طلاق رجعی   |  طلاق بائن   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: نا معلوم       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 1601:
میرے خاوند نے کئی بار مجھے فون پر طلاق دی اور پھر معافی مانگ لی۔ کبھی ایک بار طلاق کا لفظ کہا اور کبھی دو بار، ایسا کئی بار ہو چکا ہے، کیا اب بھی کوئی گنجائش باقی ہے کہ طلاق نہ ہوئی ہو؟

جواب:

1۔ بصورت مسئولہ معاملہ طلاق کا چل رہا تھا اس لئے شوہر نے یہ کہا کہ تم چلی جاؤ تو یہ طلاق بائن واقع ہو گئی۔ جس سے نکاح فورا ٹوٹ گیا۔ اب بیوی آزاد ہے عدت کے بعد جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اور اگر اپنے پہلے خاوند سے تعلقات دوبارہ رکھنا چاہتی ہے تو دوران عدت یا بعد میں تجدید نکاح کر سکتی ہے۔ لیکن ایک طلاق ہو گئی ہے اب خاوند کے پاس دو طلاقوں کا حق رہ گیا ہے، اب جب دو طلاقیں دیں تو طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی۔

الکنايات لا يقع الطلاق الا بالنية أو بدلالة الحال.

(الهداية : فتاوی عالمگير)

کنایات سے صرف نیت ہو یا دلالت حال تو طلاق واقع ہو گی۔

باقی جو خاوند نے متعدد بار صریح الفاظ میں طلاقیں دیں کہ میں نے تمہیں طلاق دی۔ اگر یہ صریح الفاظ طلاق بائن کی عدت کے دوران کہے تو طلاق مغلظہ ہو گئی، یعنی اب دوبارہ ان کا بلا حلالہ نکاح جائز نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ صریح الفاظ کہ میں نے تمہیں طلاق دی۔ طلاق بائن کی عدت کے بعد (تین حیض) یا حاملہ ہونے کی صورت میں بچے کی پیدائش کہے تو یہ الفاظ فضول گئے۔ کیونکہ نکاح ہی باقی نہ تھا۔

لہذا اگر خاوند نے طلاق بائن کی عدت کے بعد یہ کہا کہ میں نے تمہیں طلاق دی تو یہ الفاظ فضول گئے کیونکہ نکاح باقی نہ رہا تھا۔ اس صورت میں آپ اپنے خاوند سے تجدید نکاح کر سکتی ہیں۔ حلالے کی ضرورت نہیں، البتہ ایک طلاق ہو گئی ہے۔ اب خاوند کے پاس دو طلاقیں رہ گئی ہیں۔ اس کے برعکس اگر خاوند نے طلاق بائن کی عدت کے دوران یہ کہا کہ میں نے تمہیں طلاق دی، تو اس صورت میں طلاق مغلظہ واقع ہو گئی اور اب حلالے کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے۔

مسئلہ بہت نازک ہے، حرام وحلال کی بات ہے، بہتر ہو گا کہ مزید تفصیلات دینے اور جاننے کے لئے آپ کال کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-03


Your Comments