کیا اپنی‌ منکوحہ غیر مدخولہ مطلقہ کی بیٹی سے نکاح جائز ہے؟

سوال نمبر:1536
اپنی‌ منکوحہ غیر مدخولہ مطلقہ کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟

  • سائل: علی عمرانمقام: جامعہ‌ فریدیہ‌ ساہیوال
  • تاریخ اشاعت: 14 مارچ 2012ء

زمرہ: مطلقہ کی عدت

جواب:

جی ہاں، اپنی منکوحہ غیر مدخولہ مطلقہ کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔

سورۃ النساء آیت نمبر 23 میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ اگر منکوحہ غیر مدخولہ کی بیٹی ہو تو اس سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے نکاح کرنا جائز ہے۔ اگر مدخولہ ہو تو اس کے بعد نکاح حرام ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

 فَإِن لَّمْ تَكُونُواْ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ

(النساء، 4 : 23)

پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں،

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟