Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مسلمان غیر اسلامی ملک میں شراب کا کاروبار کر سکتا ہے؟

کیا مسلمان غیر اسلامی ملک میں شراب کا کاروبار کر سکتا ہے؟

موضوع: شراب نوشی   |  حرام کھانے   |  حرام مشروبات

سوال پوچھنے والے کا نام: علی عمران       مقام: جامعہ فریدیہ، ساہیوال

سوال نمبر 1465:
کیا کوئی مسلمان کسی بھی غیر اسلامی ملک میں شراب کا کاروبار کر سکتا ہے؟

جواب:

ہرگز نہیں۔ کسی بھی صورت میں مسلمان کے لیے شراب کا کاروبار کرنا جائز نہیں ہے۔ خواہ مسلمان اسلامی ملک میں ہو یا غیر اسلامی ملک میں۔ حرام کام ہر جگہ حرام ہی ہوتا ہے، اس کے لیے زمان و مکان کے تعین کی کوئی بات نہیں۔ کسی بھی غیر اسلامی ملک میں شراب کا کاروبار کرنا، یہ ایسے ہی حرام اور ناجائز ہے جیسے کسی بھی اسلامی ملک میں اس کا کاروبار کرنا حرام اور ناجائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-03-06


Your Comments