کیا ڈاکٹرز کے ذریعے حمل کروانا جائز ہے؟

سوال نمبر:1421
میں تقریباً دو سال سے شادی شدہ ہوں اور کافی علاج کروانے کے باوجود بھی اولاد کی نعمت سے محروم ہوں، علاج سے مایوس ہو کر ہمارے ڈاکٹرز نے ہمیں IUI کا مشورہ دیا ہے۔ اس ٹیسٹ میں مرد ہاتھ سے مادہ تولید (منی) نکالتا ہے اور اس مادہ تولید کو ڈاکٹر کے ذریعے عورت کے رحم کے اندر رکھ دیا جاتا ہے، آپ سے التجاء ہے کہ آپ ہماری شرعی لحاظ سے راہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ کروانا شرعاً جائز ہے، اگر جائز ہے تو اس کا صحیح طریقہ کار کیا ہونا چاہیے، کیونکہ حدیث شریف میں اپنے ہاتھ سے مادہ نکالنے والے کو ملعون فرمایا گیا ہے اور کسی عورت کا دوسری عورت کی شرم گاہ کو دیکھنا بھی جائز نہیں ہے ڈاکٹر مرد ہو تو بھی واضع۔ براہِ مہربانی صحیح راہنمائی فرمائیں۔

  • سائل: خرم غفارمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 17 جنوری 2012ء

زمرہ: اسقاط حمل/عزل   |  جدید فقہی مسائل

جواب:

اس سوال کا جواب گزر چکا ہے
براہِ مہربانی تفصیل کے لیے یہاں کلک کریں

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟