Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - غیر مسلموں کا خون مسلمانوں کو لگانے سے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

غیر مسلموں کا خون مسلمانوں کو لگانے سے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  انتقال خون

سوال پوچھنے والے کا نام: روزی خان       مقام: اسلام آباد

سوال نمبر 1305:
جو خون ہم ڈونیٹ کرتے ہیں وہ بلڈ بنک میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ اور پہلے سے موجود خون مریض کو لگا دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ خون مسلم کا ہے یا غیر مسلم کا۔ میرا سوال یہ ہے کہ آیا اس غیر مسلم کے خون سے ایک مسلم مریض کی جان تو بچ جائے گی لیکن کیا غیر مسلم کےخون سے اس پر کوئی اثرات نہیں آئیں گے؟

جواب:

خون اضطراری حالت میں دیا جاتا ہے۔ جیسے اضطراری حالت میں خنزیر جائز ہے۔ یہ چیزیں روز مرہ کی نہیں ہوتی، بلکہ مجبوری کی حالت ہوتی ہے، لہذا غیر مسلم کا خون مسلمانوں کو لگایا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ وہ خون اثر بھی نہیں کرے گا۔ خون مسلمان کا ہو یا غیر مسلم کا، خون فی نفسہ حرام ہے اور اس کا حکم غلیظ نجاست کا ہے۔

اس مسئلہ کو اس مثال سے سمجھیئے کہ ابوجہل کے خون نے اپنے بیٹے عکرمہ پر کوئی اثر نہیں کیا، ابوجہل دوزخ میں جائے گا اور اس کا بیٹا صحابی ہے، اور وہ جنت میں جائے گا۔

اسی طرح حضرت امیر معاویہ کے خون نے بھی یزید لعین پر کوئی اثر نہیں کیا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-12-23


Your Comments