Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - 9 اور 10 محرم کے روزے رکھنا کیسا ہے؟

9 اور 10 محرم کے روزے رکھنا کیسا ہے؟

موضوع: روزہ  |  عبادات

سوال پوچھنے والے کا نام: فصیحہ اطہر       مقام: کینیڈا

سوال نمبر 1256:
مُجھے 9 اور 10 محرم کے روزوں کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ یہ کب اور کیسے شروع ہوئے؟ اور یہ روزے رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

عاشورہ کا روزہ سنت ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورہ یعنی 10 محرم کو روزہ دار پایا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ تم 10 محرم کا روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ عظمت والا دن ہے کہ اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے فرعون نے نجات بخشی تھی، اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا تھا، لہذا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن بطور شکر روزہ رکھا تھا، اسی لیے ہم بھی رکھتے ہیں۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری نسبت ہم اس سے زیادہ حق دار اور زیادہ قریب ہیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم بھی دیا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کا ہے اور فرض نماز کے بعد افضل نماز صلاۃ الیل ہے۔

(مسلم، ابو داؤد، ترمذی و نسائی)

9 محرم کا روزہ رکھنا بھی بہتر ہے، تاکہ یہود کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ یہود فقط 10 محرم کا روزہ رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ 9 اور 10 محرم الحرام کو روزہ رکھیں۔

علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عاشورہ سے ایک روز پہلے اور ایک روز بعد روزہ رکھنا چاہیے تاکہ یہود کی مخالفت ہو۔ مزید تفصیلات کے لیے صحیح مسلم یا کسی بھی حدیث مبارکہ کی کتاب میں باب الصوم یوم عاشورہ ملاحظہ فرمائیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2011-12-03


Your Comments