تبرہ کی حقیقت کیا ہے؟

سوال نمبر:1199
تبرہ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ جائز ہے؟

  • سائل: صابر حسینمقام: لیہ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 06 اکتوبر 2011ء

زمرہ: خلفائے راشدین و صحابہ کرام

جواب:

تبرہ کی حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ العیاذ باللہ سیدنا صدیق اکبر، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان غنی رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مانتے ہیں اور باقی کوئی خلیفہ نہیں ہے، اللہ جل مجدہ ایسے عقیدے سے محفوظ رکھے، اہل سنت و الجماعت کے نزدیک چاروں خلفاء راشدین حق ہیں، ان سب کو اللہ جل مجدہ نے بلند درجے عطا فرمائی ہیں، لہٰذا یہ صرف ایک فرقے کی من گھرٹ اصطلاح ہے۔

اس موضوع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مکمل خطابات سننے کے لیے کلک کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟