Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا شراکت کے کاروبار میں نفع کی شرح پہلے مقرر کرنا جائز ہے؟

کیا شراکت کے کاروبار میں نفع کی شرح پہلے مقرر کرنا جائز ہے؟

موضوع: خریدو فروخت (بیع و شراء، تجارت)   |  شراکت   |  سود   |  شراکت کی اقسام   |  شراکت کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: ممتاز احمد       مقام: شیخو پورہ

سوال نمبر 1193:
اگر دو افراد سرمائے سے کاروبار شروع کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ماہ نفع و نقصان کی شراکت کی بجائے ایک فریق اگر یہ کہے کہ اتنی رقم ہر ماہ اوسطاً دے دیا کرو چاہے تمہیں فائدہ ہو یا نقصان کیا ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب:

صورت مذکورہ میں کاروبار جائز نہیں۔ سرمایہ دونوں کا برابر ہے۔ اگر ایک فریق وقت یا محنت زیادہ کرے تو اس حساب سے اسے اضافی رقم دینا جائز ہے۔ اگر دونوں نے سرمایہ بھی برابر لگایا اور وقت بھی برابر صرف کیا یا محنت بھی برابر ہے تو محض تناسب سے متعین رقم ایک کو دینا اور اس کی شرط لگانا ہرگز شرعاً جائز نہیں۔ اس صورت میں صرف نفع و نقصان میں برابری کی بنیاد پر کاروبار کر سکتے ہیں۔ بالفرض کاروبار میں نقصان ہو جاتا ہے تو دوسرا حصے دار کس بنیاد پر مخصوص رقم لے گا؟ یہ تو خالص سود ہے اور شریک کاروبار پر ظلم، لہٰذا ناجائز و حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-09-07


Your Comments