Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بنک سے بطور قرض لی ہوئی رقم میں سے مسجد کو دیا جا سکتا ہے؟

کیا بنک سے بطور قرض لی ہوئی رقم میں سے مسجد کو دیا جا سکتا ہے؟

موضوع: مسجد   |  صدقات   |  صدقات نافلہ

سوال پوچھنے والے کا نام: ملک ناسک       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 1183:
السلام علیکم ایک شخص نے -/100,000,000=Rs کا قرض بنک سے لے رکھا ہے اور اس میں -/10،000،000 روپے اس کے ذاتی بھی اس میں شامل ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس میں سے کچھ رقم مسجد کو دے سکتی ہے؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ بنک سے جو قرض کیا جاتا ہے اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے؟

جواب:

بصورت مسؤلہ اس کی ذاتی رقم بھی ہے تو بہتر یہی ہے کہ اپنی ذاتی رقم سے مسجد پر خرچ کریں۔ اگر قرض سے بھی دینا چاہے تو جائز ہے، آپ نے جو صورت بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ شخص بنک کو قرض ادا کرے گا، اس کا گناہ ہے مگر چونکہ بنک والے اس کو نہیں دیں گے۔ لہذا فی الحال اس کے پاس جو رقم ہے اس میں سود نہیں ہے اور سود والی رقم حرام ہے۔ اگر اس کے پاس قرض ادا کرنے کے قوی ذرائع ہیں تو جائز ہے اور اگر نہیں تو پھر قرض والی رقم سے مسجد پر خرچ نہ کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-09-14


Your Comments