Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اپنی بیوی کو طلاق یافتہ کہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟

کیا اپنی بیوی کو طلاق یافتہ کہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟

موضوع: طلاق   |  اقسام طلاق   |  طلاق بائن

سوال پوچھنے والے کا نام: شجاع الدین       مقام: فیصل آباد، پاکستان

سوال نمبر 1173:

گھریلو جھگڑے کی بناء پر ایک شخص کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا اور اس نے غصہ میں آ کر کہا کہ ’’تم پہلے ہی طلاق زدہ یا طلاق یافتہ ہو‘‘، جبکہ اس کی نیت نہیں تھی کہ اسے طلاق دے بلکہ ایک طعنہ کے طور پر کہا تھا۔ کیا اس سے طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب:

آپ نے اپنی بیوی کو کہا ’’تم پہلے ہی طلاق زدہ ہو یا طلاق یافتہ ہو‘‘ تو ایک طلاق رجعی ہو گئی۔ نیت ہو یا نہ ہو لفظ واضح و صریح ہے۔ اگر اس کے بعد عدت کے اندر اندر زبانی یا عملی طور پر رجوع کر لیا تو طلاق کا اثر ختم ہو گیا اور دونوں دوبارہ میاں بیوی بن گئے۔ اگر اس واقعہ کے بعد عدت گزر گئی ہے تو نکاح کلیۃً ختم ہو گیا، البتہ اگر دونوں چاہیں تو بغیر حلالہ وغیرہ کے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-08-16


Your Comments