Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر عورت کو لکھی ہوئی طلاق وصول نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

اگر عورت کو لکھی ہوئی طلاق وصول نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

موضوع: طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)   |  نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: عارف الاسلام، ثناء اللہ       مقام: ابوظہبی، یو اے ای

سوال نمبر 1114:

السلام علیکم !

مسٹر عبداللہ نے اپنی بیوی کو صاف صاف الفاظ میں‌ تین طلاقیں لکھ کر بھیج دیں، اب سوال یہ ہے کہ اگر عورت وصول کرتی ہے یا نہیں کرتی دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے؟

والسلام، جزاک اللہ و احسنی الجزاء

جواب:
اکھٹی تین طلاقیں دینے پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ اب آپ اپنی سابقہ بیوی سے تعلقات زن و شو بحال نہیں کر سکتے تاوقتیکہ وہ عدت گزار کر کسی اور سے نکاح و قربت نہ کر لے۔ اگر نکاح و قربت کے بعد اس دوسرے خاوند نے اسے طلاق دی اور عدت گزر گئی تو آپ سے باہمی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔ ورنہ نہیں۔ خاوند کے زبانی یا تحریری طور پر دینے سے طلاق ہوجاتی ہے خواہ عورت وصول کرے خواہ نہ کرے۔ اس کو علم ہو خواہ نہ ہو۔ اللہ پاک ہم کو ہدایت دے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-07-09


Your Comments