کیا عورتیں اپنے سر کے بال شوق اور شوہر کی مرضی سے کٹوا سکتی ہیں؟

سوال نمبر:1090
کیا عورتیں اپنے سر کے بال شوق اور شوہر کی مرضی سے کٹوا سکتی ہیں؟

  • سائل: محمد طاہر قادریمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 25 جون 2011ء

زمرہ: جسمانی صفائی

جواب:

خواتین کے لیے سر کے بال کٹوانا جائز نہیں ہے، اگرچہ شوہر نے اجازت دی ہو۔ اس لیے کہ حدیث پاک میں آتا ہے:

لا طاعة فی معصية الله.

اللہ کی نا فرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔

اور نہ شرعی امور میں شوق اور خواہش پر عمل کرنا جائز ہے۔ رواج اگر حدیث مبارکہ کے خلاف ہو تو ممنوع ہے۔ اگر موافق ہو تو درست ہے۔ چونکہ حدیث مبارکہ میں ہے :

من تشبه بقوم فهو منهم.

لہٰذا اگر خواتین بال اتنے چھوٹے کرلیں کہ مردوں کے برابر یعنی کانوں تک یا اس سے زیادہ اور کندھوں سے اوپر تک ہوں تو یہ حدود مردوں کے لیے ہیں اور عورتوں کے لیے ممنوع ہیں۔

حج کے موقع پر حکم یہ ہے کہ خواتین لقصیر اور تحلیق کی بجائے انگلیوں کے پوروں کے برابر بال کاٹ لیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواتین کو لمبے بال رکھنے چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟