اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ غلط تعلقات رکھے تو کیا اس کے ساتھ میل جول رکھنا چاہے؟

سوال نمبر:1073
اسلام و علیکم ہماری فیملی میں ایک لڑکا نکاح کے بغیر لڑکی کے ساتھ رہ رہا ہے اس کو ہم نے بہت سمجھایا ہے کہ اسلام میں یہ حرام ہے اور گناہ ہے لیکن اس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ اس کی والدین کے ساتھ بھی بات کی ہے وہ بھی اس ساتھ ہیں۔ اب آپ یہ بتائیں کہ اس لڑکے ساتھ میل جول رکھنا چائیے۔ اگر اس کے والدین یا اس بہن بھائی ہمیں دعوت دیتے ہیں جس میں ان کا وہ بیٹا بھی شامل ہے تو کیا ہمیں جانا چاہیے یا نہیں۔ اللہ حافظ

  • سائل: محمد یوسف قادریمقام: ڈنمارک
  • تاریخ اشاعت: 25 جون 2011ء

زمرہ: معاملات

جواب:
کسی شخص کا بغیر نکاح کسی لڑکی کے ساتھ تعلقات قائم کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے، اسے چاہیے کہ جلدی سے اس لڑکی کے ساتھ شرعی نکاح کریں ورنہ ایسے لڑکے کے ساتھ میل جول رکھنا اور تعاون کرنا بھی گناہ ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ اسے سمجھایا جائے اگر پھر بھی وہ نکاح نہیں کرتا تو اس کے ساتھ بائیکاٹ کیا جائے۔ اس لیے کہ وہ حرام قطعی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے :

لا یخلون احدکم بالمرءة.

(مستدرک للحاکم، ج : 1 ص : 115)

تم میں سے کوئی بھی کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ جائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟