Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حالت کے اعتبار سے احسان کے کتنے درجے ہیں؟

حالت کے اعتبار سے احسان کے کتنے درجے ہیں؟

موضوع: روحانیات  |  روحانیات

سوال نمبر 106:
حالت کے اعتبار سے احسان کے کتنے درجے ہیں؟

جواب:
حدیث جبریل میں ہمیں احسان کی کيفیت کے اعتبار سے دو حالتوں کا بیان ملتا ہے، پہلی حالت کو حالتِ مشاہدہ کہتے ہیں دوسری کو حالتِ مراقبہ کہتے ہیں۔

حالت مشاہدہ

أن تعبد اﷲ کأنک تَرَاه

’’ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘

یہ کيفیت حالتِ مشاہدہ کہلاتی ہے۔ جب بندہ محبوب حقیقی کی یاد کو پورے دھیان کے ساتھ ہر وقت اپنے دل میں بسائے رکھے اور اسی کے تصور اور مشاہدہ کے سمندر میں غوطہ زن رہتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی حضوری میں رکھے۔ جب دل کے تمام گوشے محبوب کی یاد اور تصور سے معمور ہو جائیں اور نس نس میں وہی سما جائے تو اس کے نتیجے میں وہ ظاہری دنیا میں جو کچھ دیکھے گا سب بے خیالی اور بے دھیانی کی نذر ہو جائے گا جب استغراق کی یہ حالت نصیب ہو جائے تو قلب و ذہن پر پڑے ہوئے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ مقام حاصل ہو جاتا ہے جس میں بندہ اﷲ کے حسن اور تجلیات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔

حالت مراقبہ

فإن لم تکن تراه فإنه يراک

’’پس اگر تو اسے نہ دیکھ سکے تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘

کيفیت و حالت کے اعتبار سے یہ احسان کا دوسرا درجہ ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ غلام اپنے آقا کے احکام کی تعمیل اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ اس کے سامنے موجود ہو اور اسے یقین ہو کہ وہ مجھے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ مالک کی غیر موجودگی میں اس کے کام کا وہ حال نہیں ہوتا جو وہ مالک کے سامنے دھیان اور لگن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اگر وہ خود نہ بھی دیکھے مگر اس کے اندر یہ احساس جاگزیں ہو جائے کہ اس کا آقا اسے دیکھ رہا ہے، تو یہ احساس اس کے کام میں حسن اور لگن پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ بندگی میں یہ مقام حالتِ مراقبہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وقت بندے کے دل و دماغ پر یہ کيفیت طاری رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ میری ہر حرکت و سکون اس کے سامنے ہے یوں بندہ ہمہ وقت اپنے مولا کی نگرانی کے تصور سے بہت زیادہ ڈرتا رہے۔ اس حالت و کيفیت کو مراقبہ کہتے ہیں اور یہ احسان کا دوسرا مرتبہ ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں :

’’احسان کے پہلے مرتبہ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے دل پر معرفت الٰہیہ کا اس قدر غلبہ ہو اور وہ مشاہدہ حق میں اس طرح کھو جائے گویا اﷲ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے، یہ مقام فنا کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ معرفت الٰہیہ کے اس مقام پر تو اگرچہ نہ ہو لیکن اس کے ذہن میں ہر وقت یہ بات موجود رہے کہ اﷲ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘

 ابن حجر عسقلانی رحمة الله عليه، فتح الباری، 1 : 120

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ احسان کا پہلا مرتبہ عارف کے احوال اور اس کے قلب پر ہونے والی واردات کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی سالک پر ایسا حال طاری ہو جائے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ احسان کے دوسرے مرتبہ میں عابد کی اس کيفیت کی طرف اشارہ ہے یعنی جس وقت وہ عبادت کرے تو اس علم اور یقین کے ساتھ کرے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات اسے دیکھ رہی ہے۔

 ملا علی قاری، مرقاة المفاتيح، 601

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments