كيا مشت سے كم داڑھى ركھنے كا كوئى اجر و ثواب نہيں ہے؟

سوال نمبر:1048
كيا يہ بات درست ہے كہ مشت بھر سے كم داڑھى ركھنے كا كوئى اجر و ثواب نہيں ہے؟

  • سائل: عنصر محمودمقام: كوپن هيگن  ڈنمارک
  • تاریخ اشاعت: 18 جون 2011ء

زمرہ: داڑھی کی شرعی حیثیت

جواب:
مطلقا داڑھی رکھنا واجب ہے کیونکہ اس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا ہے۔ ارشاد گرامی ہے :

انهکوا الشوارب واعفوا اللحی.

(صحيح بخاری، ج : 2، ص : 875)

مونچھیں کٹواؤ داڑھیاں بڑھاؤ۔

فقہاء کرام فرماتے ہیں :

القدر المسنون فی اللحية  القبضة.

فتح القدير، ج : 2، ص : 170
النهاية والبداية، 1344
البحر الرائق، ج : 2، ص : 1280

داڑھی میں سنت قبضہ یعنی مشت بھر داڑھی رکھنا سنت ہے۔

اجر و ثواب دینے والا اللہ تعالیٰ ہے مشت بھر سے کم پر ثواب نہ ملنا کسی حدیث پاک میں موجود نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟