Fatwa Online

اجنبی شخص کو اپنا وکیل بنانے پر لڑکی کے نکاح کی شرعی کیا حیثیت ہوگی؟

سوال نمبر:5646

السلام علیکم سر! میرا سوال یہ ہے کہ میرا نکاح ٹیلی فون پہ ہوا۔ جس لڑکی سے میں نے نکاح کیا۔ اس نے نکاح پڑھانے والے بندے کو ہی اپنا وکیل بنایا کہ وہ اس لڑکی کی طرف سے ایجاب قبول کر لے۔ وہ ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں تھے۔ تو کیا یہ نکاح ہو گیا یا نہیں؟

سوال پوچھنے والے کا نام: آصف خان

  • مقام: اٹک ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 31 دسمبر 2019ء

موضوع:نکاح

جواب:

ٹیلی فون یا انٹرنیٹ پر ہونے والے نکاح میں ایجاب وقبول کے لیے مجلسِ نکاح کا ایک جگہ منعقد ہونا لازم ہے۔ اگر متعاقدین (یعنی عقدِ نکاح کرنے والا لڑکا اور لڑکی) میں سے کوئی ایک مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو‘ جیسا کہ مسئلہ مسؤلہ میں ہے کہ لڑکی مجلسِ نکاح میں موجود نہیں تو نکاح کی صورت یہ ہوگی کہ لڑکی کسی ایسے شخص کو جو لڑکے کے شہر میں رہتا ہو‘ وکیل بنا دے اور وکیل اس کی جانب سے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرے۔ لڑکی کے لئے وکیل و گواہ غیرمحرم بھی بن سکتا ہے، البتہ نامحرم شخص کو لڑکی کا وکیل بنانا خلافِ مروت ہے۔ بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا محرم یا ولی اقرب ہی لڑکی کا وکیل بنے۔ لڑکی اگر بالغہ ہو تو وہ اپنے نکاح کا وکیل کسی کو بھی بناسکتی ہے۔

اگر لڑکی نے کسی ایسے شخص کو وکیل بنایا ہے جو اس کا محرم یا اقرب نہیں ہے تو اس پر لازم ہے کہ سب سے معلوم کرے کہ متعاقدین (یعنی لڑکا اور لڑکی) کا نکاح شرعا جائز ہے، کوئی شرعی مانع تو نہیں‘ جیسے دونوں محرم نہ ہوں، لڑکی عدت میں نہ ہو وغیرہ۔ دونوں مسلمان ہوں یا مرد مسلمان اور عورت کم از کم اہل کتاب (یہودی یا مسیحی) ہو، دو مسلمان عاقل و بالغ مرد گواہ موجود ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔

لڑکی کی طرف سے مقررہ کردہ وکیل لڑکی کی مشاورت سے حق مہر کا تعین کرے اور اس سے نکاح کی اجازت لے، گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو اور نکاح کی دستاویزات لکھی جائیں۔ پھر لڑکی کا وکیل کہے کہ میں نے اس مقررہ مہر کے عوض یہ نکاح اپنی مؤکلہ (لڑکی)کے لئے قبول کرلیا ہے، تو نکاح ہوگیا۔ اگر آپ کے نکاح میں بھی یہی صورت رہی ہے تو نکاح منعقد ہو گیا، اگر اس کے برعکس تھا تو تجدیدِ نکاح کریں۔ ٹیلی فون پر نکاح کی شرائط جاننے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:

ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Print Date : 22 January, 2020 12:40:43 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/5646/