Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا رضاعی بہن سے شادی ہو سکتی ہے؟

کیا رضاعی بہن سے شادی ہو سکتی ہے؟

موضوع: نکاح   |  احکام رضاعت

سوال پوچھنے والے کا نام: سید احمد حسین       مقام: حیدرآباد، انڈیا

سوال نمبر 889:
میں نے بچپن میں اپنی بڑی خالہ کا دودھ پیا تھا۔ انہی دنوں میں میری ہم عمر میری ایک خالہ زاد بہن بھی اپنی ماں یعنی میری خالہ کا دودھ پیتی تھی، یعنی وہ میری دودھ شریک بہن ہوگئی، اس لیے اسکے ساتھ تو میرا نکاح کرنا حرام ہونا معلوم ہے۔ مگر پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں اسکی سگی بڑی بہن سے نکاح کرسکتا ہوں؟ جبکہ اس بڑی بہن نے میرے ہمراہ کبھی اپنی ماں یعنی میری خالہ کا دودھ نہیں پیا، بلکہ اس نے بہت سال پہلے اپنے وقت میں پیا تھا۔ براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ۔

جواب:
صورت مسؤلہ میں آپ کا نکاح خالہ زاد بہن سے جائز نہیں ہے چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔

حدیث مبارکہ میں آتا ہے :

يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب. (اوکما قال)

نسب سے جو رشتے حرام ہیں وہی رضاعت (دودھ پینے) سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔

ھدایہ میں ہے :

ولا باُمّه من الرضاعة ولا باخته من الرضاعة.

اپنی رضاعی ماں اور رضاعی بہن سے نکاح جائز نہیں ہے۔

آپ کی خالہ کی تمام بیٹیاں آپ کی رضاعی بہنیں ہیں اس لیے ان کے ساتھ آپ کا نکاح جائز نہیں ہے البتہ آپ کا دوسرا بھائی جس نے اس خالہ کا دودھ نہیں پیا وہ ان کی بیٹیوں سے شادی کر سکتا ہے۔ چونکہ رضاعت کی وجہ سے خالہ آپ کی ماں بن گئی ہے اس لیے اس کی ساری اولاد آپ کے رضاعی بہن بھائی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-04-14


Your Comments