Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - تصویر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

تصویر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

موضوع: تصویر کی شرعی حیثیت

سوال پوچھنے والے کا نام: روشن       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 856:
1۔ کیا تصویر کھینچوانا منع ہے؟

2۔ ہاتھ سے تصویر بنانا منع ہے تو کیوں؟

جواب:

تصویر کا استعمال اتنا عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی کوئی گھر، بلکہ کوئی جیب اس سے خالی ہو۔ فقہاء کرام کے ہاں ایک اصطلاح مستعمل ہے، جسے عموم بلوٰی کہتے ہیں۔ اس کا معنیٰ ہے عام لوگوں کا کسی مسئلہ میں گرفتار ہونا۔ علماء و فقہا کرام دیکھتے ہیں کہ اگر اس صورت میں جواز کی گنجائش ہو، تو وہ جواز پر فتوی دیتے ہیں۔ بہت سارے مسائل میں فقہاء کرام نے عموم بلوٰی کی وجہ سے جواز پر فتوی دیا ہے۔ تصویر کے بارے میں احادیث میں مذمت بھی آتی ہے اور جواز کی صورت بھی موجود ہے۔ کرنسی نوٹ، ٹکٹیں، لفافے، رسالے، دستاویزات، ویزا، پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ملازمت، سفر، شادی بیاہ اور لین دین وغیرہ کا جواز عموم بلوٰی ہے۔

صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے اپنے دروازے پر پردہ لٹکایا جس میں تصاویر تھیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ پھاڑ دیا۔ اس سے میں نے دو گدے بنا لیے۔ آگے فرماتی ہیں:

فکانتا فی البيت يجلس عليها

بخاری، الصحیح، 1: 337

دوں گدےگھر میں تھے، ان پر سرکارِ دوعالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھا کرتے تھے۔

اب اگر مطلقاً ہر تصویر حرام ہوتی تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام ان گدوں پر نہ بیٹھتے، اور فرماتے کہ اس کو ختم کر دو۔ مگر ایسا نہیں ہوا، بلکہ سرکار دوعالم علیہ الصلوۃ والسلام ان گدوں پر بیٹھا کرتے تھے۔

پہلی صورت میں یعنی پردے کی صورت میں یہ اس وقت تکبر کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ ایک طرف لوگوں کو بدن ڈھاپنے کے لیے کپڑا نہیں ملتا، دوسری طرف پردوں کے لیے کپڑا استعمال کرنا مناسب نہیں تھا۔

فقہاء کرام نے تصویر کی حرمت یوں بیان کی ہے۔ فرشتے صرف اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں وہ کتا یا تصویر ہو جسے رکھنا حرام ہے۔ رہا وہ جس کا رکھنا حرام نہیں مثلا شکاری کتا، کھیتی اور مویشیوں کی حفاظت کرنے والا کتا اور جو تصویر قالین اور تکیہ وغیرہ پر روندھی جاتی ہیں یا ڈیکوریشن پیس ہیں، ان کی وجہ سے فرشتوں کا داخلہ ممنوع نہیں ہوتا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-04-01


Your Comments