کیا حجاج کرام سے وعدہ خلافی کرنے والے ٹریول ایجنٹس کی کمائی حلال ہے؟

سوال نمبر:807
آج کل اکثر دیکھا گیا ہے کہ ٹریول ایجنٹس اور ٹورز پلانرز حجاج کرام اور معتمرین کے سامنے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور انہیں حرمین شریفین کی سرزمین پر نعم بہشت پہنچانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ لیکن امت مسلمہ کی زندگی کے ہر شعبے کے طرح یہ شعبہ بھی بدترین بگاڑ کا شکار ہوچکا ہے۔ یہ ٹریول ایجنٹس بعد ازاں مہمانان الہی کو موسم اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی خبر تک نہیں لیتے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایسے ٹریول ایجنٹس کی کمائی جائز ہوگی یا ناجائز؟

ثانیا ایسے ٹریول ایجنٹس وعدہ خلافی کے مرتکب ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نافرمانی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟

ثالثا ایسے ٹریول ایجنٹس زائرین حرمین شریفین کو سہولیات بہم پہنچانے کے قرآنی حکم کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں؟

  • سائل: محمد فاروقمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 21 مارچ 2011ء

زمرہ: عمرہ کے احکام و مسائل  |  وظائف

جواب:
اسلام میں جھوٹ بولنے پر سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد بای تعالیٰ ہے :

فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ.

(آل عمران، 3 : 61)

''اور جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت بھیجتے ہیںo''

لعنت سے مراد اللہ تعالی کی رحمت سے دور ہونا اور غضب الہی کا مستحق ہونا ہے۔ العیاذ باﷲ

حضرت عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :

إن التجار هم الفجار.

''بے شک تاجر فاجر (گناہ گار) ہیں۔''

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا:

يا رسول الله! أليس قد أحل الله البيع؟

''یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال نہیں فرمایا ہے؟''

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

بلى ولكنهم يحلفون فيأثمون ويحدثون فيكذبون.

(المستدرک للحاکم، کتاب البيوع، باب البيع يحضره الکذب واليمين، 2: 8، رقم : 2145)

''(اللہ تعالی نے خرید و فروخت اور تجارت کو) حلال کیا ہے لیکن یہ تاجر (کاروبار میں جھوٹی) قسمیں کھاتے ہیں تو گنہگار ہو جاتے ہیں، اور جب کاروباری معاملہ کرتے ہیں تو اس میں جھوٹ بولتے ہیں۔''

ثانیا یہ بھی واضح رہے کہ حجاج کرام اور معتمرین کے ساتھ حسن سلوک کرنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اقدس ہے :

ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فليكرم ضيفه.

(صحيح البخاری، کتاب الادب، باب حق الضيف، 5: 2272، رقم: 5784)

''اور جو کوئی اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر واجب ہے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔''

حاجی صاحبان کے دو حقوق واضح ہیں : ایک مسافر کے حوالے سے اور دوسرا حق یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ لہذا تمام ٹور آپریٹرز کا دینی اور اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ کے مہمانوں کو وہی سہولیات فراہم کریں جن کا انہوں نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جن کے مطابق مہمانان الہی سے رقم وصول کی گئی ہے۔ پس قرآن و حدیث کی رو سے ایسے حج ٹور آپریٹرز، جو حجاج کرام اور معتمرین کو وعدہ کے مطابق سہولیات فراہم نہ کریں، اللہ تعالی اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے نافرمان ہیں اور دوسروں کو دھوکہ دینے والے ہیں اور حرام کماتے ہیں کیوں کہ جھوٹی قسمیں کھانے اور سہولیات کے لیے کیے گئے وعدہ کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے ان کی کمائی حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟