کسی اچھے کام کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے کی طرف منسوب کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:780
میں جب کبھی کسی کام کا ارادہ دل میں کرتا ہوں تو وہ عین اسی طرح بغیر کسی محنت کے ہو جاتا ہے تو اکثر میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے کر دیا اور حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ سے یہ کام میرے حق میں کرا دیا۔ یعنی آقا علیہ الصلوۃ والسلام میرے حق میں دعا کر رہے ہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟

  • سائل: عبداللہ خانمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 14 مارچ 2011ء

زمرہ: عقائد

جواب:
یہ درست ہے اس لیے کہ تمام علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیلے سے اللہ جل شانہ سے سوال کرنا مستحب ہے اور وسیلہ جائز ہے۔

ہم سب اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ تمام امور اور مشکلات کا حل اللہ جل شانہ کے دست قدرت میں ہے اور اپنے محبوب بندوں کے وسیلے سے دعا قبول فرماتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟